السلام و علیکم، میرے پیارے دوستو! آج کل ہم سب ایک ایسے اہم مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں جو ہماری دنیا اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے بے حد ضروری ہے: گرین ہاؤس گیسوں کا بڑھتا ہوا اخراج۔ جب میں نے خود اس موضوع پر گہرائی سے غور کرنا شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ یہ صرف سائنسی بحث نہیں ہے، بلکہ ہماری روزمرہ کی زندگی، ہمارے ماحول اور خاص طور پر ہمارے ملک کے موسمی حالات پر براہ راست اثر ڈال رہی ہے۔ اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ یہ کوئی بہت بڑا کام ہے اور ہم اکیلے کچھ نہیں کر سکتے، لیکن میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں بھی مل کر بہت بڑا مثبت فرق لا سکتی ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہم سب کو آج ہی سے سمجھنی ہو گی۔ تو چلیے، آج ہم مل کر یہ دیکھتے ہیں کہ ہم کس طرح گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اور اپنی زمین کو مزید سرسبز و شاداب بنا سکتے ہیں۔ نیچے دی گئی تحریر میں مزید تفصیل سے جانتے ہیں!
ہمارے ماحول کا خیال رکھنا: چھوٹے اقدامات سے بڑا اثر

ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا سیارہ ایک خوبصورت تحفہ ہے، لیکن ہم کبھی کبھی اس کی قدر کرنا بھول جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے، جب میں چھوٹا تھا تو گرمیوں کی چھٹیاں نانی کے گاؤں میں گزرتی تھیں، جہاں بجلی کا استعمال بہت محدود تھا اور لوگ سورج کی روشنی پر زیادہ انحصار کرتے تھے۔ آج جب میں اپنے بل دیکھتا ہوں اور شہروں میں بجلی کے بے تحاشا استعمال کو دیکھتا ہوں تو دل میں ایک ٹیس سی اٹھتی ہے۔ میرے پیارے دوستو، گرین ہاؤس گیسوں میں کمی کی شروعات ہمارے اپنے گھروں سے ہوتی ہے، اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ میں نے خود تجربہ کیا ہے کہ اگر ہم چھوٹی چھوٹی عادتیں اپنا لیں تو کتنا فرق پڑ سکتا ہے۔ جب میں نے اپنے گھر میں غیر ضروری لائٹس اور پنکھے بند کرنے شروع کیے تو نہ صرف بجلی کا بل کم آیا بلکہ مجھے ایک عجیب سی تسلی بھی محسوس ہوئی۔ اسی طرح، پرانے سامان کو پھینکنے کے بجائے اسے دوبارہ استعمال میں لانا یا کسی کو دے دینا ایک بہت اچھی عادت ہے۔ یہ نہ صرف فضلے کو کم کرتا ہے بلکہ وسائل کو بھی بچاتا ہے۔ سوچیں، ایک ریفریجریٹر یا واشنگ مشین جو اب آپ کے کام کی نہیں، وہ کسی اور کے لیے کتنی کارآمد ثابت ہو سکتی ہے!
یہ صرف پیسے بچانے کی بات نہیں، یہ ہمارے سیارے کی بقا کی بات ہے۔
گھر میں توانائی کا بہتر استعمال
ہمارے گھروں میں توانائی کا استعمال گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک بڑا حصہ ڈالتا ہے۔ میں نے اپنی والدہ کو اکثر دیکھا ہے کہ وہ نہ صرف تمام غیر ضروری برقی آلات کو بند کر دیتی ہیں بلکہ یہ بھی یقینی بناتی ہیں کہ سردیوں میں کمرے کو گرم رکھنے کے لیے کھڑکیاں اور دروازے اچھی طرح سے بند ہوں۔ اس سے ہیٹر کا استعمال کم ہوتا ہے اور توانائی بچتی ہے۔ اسی طرح، گرم پانی کے لیے گیزر کا استعمال بھی ہمیں سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ صرف ضرورت کے وقت ہی اسے آن کریں، اور جب کام ہو جائے تو بند کر دیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب میں اپنے موبائل چارجر کو سوئچ سے نہیں نکالتا تھا، تو وہ ہلکا سا گرم رہتا تھا، جس کا مطلب ہے کہ وہ توانائی استعمال کر رہا تھا۔ اب میں ہر بار چارجنگ کے بعد سوئچ آف کر دیتا ہوں، اور یہ عادت اب میری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔
پرانے سامان کو نیا جیون دینا
ہمارے معاشرے میں “استعمال کرو اور پھینک دو” کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جو کہ افسوسناک ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے بزرگ کیسے پرانی چیزوں کو مرمت کر کے یا ان کو کسی اور کام میں لا کر دوبارہ استعمال کرتے تھے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب میں نے اپنی پرانی کرسی کو پھینکنے کے بجائے اس کی مرمت کروائی، تو وہ نہ صرف دوبارہ قابل استعمال ہو گئی بلکہ مجھے اس پر فخر بھی محسوس ہوا۔ اسی طرح، پرانے کپڑوں سے ٹاٹ یا صفائی کے کپڑے بنانا، یا ٹوٹے ہوئے فرنیچر کو کسی ماہر کاریگر سے ٹھیک کروانا، یہ سب چھوٹے چھوٹے اقدامات ہیں جو فضلے کو کم کرتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس کوئی چیز ایسی ہے جو اب آپ کے کام کی نہیں رہی، تو اسے پھینکنے کے بجائے کسی ضرورت مند کو دے دیں یا اسے کسی ایسے شخص کو بیچ دیں جو اسے استعمال کر سکے۔ اس طرح ہم ایک پائیدار طرز زندگی اپنا سکتے ہیں۔
سبز سفر: ماحول دوست نقل و حمل کے طریقے
ہم میں سے اکثر لوگ اپنے روزمرہ کے سفر کے لیے گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں، اور یہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ میرے ایک دوست نے حال ہی میں اپنی کار بیچ کر موٹر سائیکل لے لی، اس کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف پٹرول کی بچت ہوتی ہے بلکہ ٹریفک میں بھی آسانی رہتی ہے۔ میں خود ذاتی طور پر یہ محسوس کرتا ہوں کہ جب میں کبھی کبھار پیدل چلتا ہوں یا سائیکل کا استعمال کرتا ہوں تو مجھے ایک الگ ہی قسم کی تازگی اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔ یہ صرف ماحول کے لیے اچھا نہیں بلکہ ہماری صحت کے لیے بھی بہترین ہے۔ جب میں صبح سویرے پیدل چل کر دفتر جاتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنے دن کا آغاز ہی ایک مثبت انداز میں کیا ہے۔ ٹریفک کے شور اور دھوئیں سے بچ کر کھلی فضا میں سانس لینا ایک بہترین تجربہ ہے۔ ہم پاکستانی اکثر ٹریفک جام میں پھنس کر پریشان ہوتے ہیں، لیکن اگر ہم میں سے کچھ لوگ بھی عوامی نقل و حمل یا ماحول دوست طریقوں کو اپنائیں تو شاید ٹریفک کا مسئلہ بھی کچھ حد تک حل ہو جائے۔ سوچیں، اگر آپ ہر ہفتے میں صرف دو دن بھی گاڑی کا استعمال ترک کر دیں اور بس یا رکشہ سے سفر کریں، تو اس سے کتنا فرق پڑے گا!
گاڑی کے بجائے عوامی سواری کا انتخاب
مجھے یاد ہے، جب میں کالج میں تھا تو ہم سب دوست بس پر سفر کرتے تھے۔ اس وقت ہمیں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ ہم ماحول کے لیے کتنا اچھا کر رہے ہیں۔ اب جب میں اپنے شہر میں میٹرو بس یا دیگر عوامی نقل و حمل کے ذرائع دیکھتا ہوں تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ جب میں عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کرتا ہوں تو مجھے گاڑی چلانے کی تھکان سے بچت ہوتی ہے اور میں راستے میں کچھ پڑھ بھی سکتا ہوں یا اپنے دوستوں سے بات کر سکتا ہوں۔ یہ نہ صرف پٹرول کے اخراجات بچاتا ہے بلکہ کاربن کے اخراج کو بھی کم کرتا ہے۔ جب ایک ہی بس میں پچاس لوگ سفر کرتے ہیں تو یہ پچاس گاڑیوں کے مقابلے میں بہت کم دھواں چھوڑتی ہے۔ اگر ممکن ہو تو، اپنے دفتر یا کام کی جگہ پر جانے کے لیے کار پولنگ کا انتظام کریں، یعنی چند دوست مل کر ایک ہی گاڑی میں سفر کریں، جس سے سب کے اخراجات بھی کم ہوں گے اور ماحول پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔
پیدل چلنا اور سائیکل چلانا: صحت بھی، ماحول بھی
کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنا وزن کم کرنے کے لیے پیدل چلنا شروع کیا اور مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس سے نہ صرف میرا وزن کم ہوا بلکہ میں ذہنی طور پر بھی بہت پرسکون محسوس کرنے لگا۔ پیدل چلنا اور سائیکل چلانا ماحول دوست نقل و حمل کے بہترین طریقے ہیں۔ اگر آپ کا کام نزدیک ہے تو گاڑی لینے کے بجائے پیدل چلنے یا سائیکل چلانے کا انتخاب کریں۔ یہ نہ صرف آپ کو تازہ ہوا میں سانس لینے کا موقع دے گا بلکہ آپ کو ورزش بھی کروائے گا، جس سے آپ کی صحت بہتر ہوگی۔ مجھے ذاتی طور پر شہر کی بھاگ دوڑ میں سائیکل چلاتے ہوئے بہت سکون محسوس ہوتا ہے، اور یہ مجھے فطرت سے قریب تر محسوس کراتا ہے۔ اس سے آپ کو پٹرول کے اخراجات بھی نہیں اٹھانے پڑیں گے، اور پارکنگ کی پریشانی بھی نہیں ہوگی۔ یہ ایک ایسا “ون-ون” حل ہے جس میں آپ بھی فائدے میں رہتے ہیں اور ہمارا سیارہ بھی۔
خوراک اور فصلیں: ہمارے کھانے کے انتخاب کا اثر
ہمارا کھانا، جس کے بارے میں ہم شاید ہی کبھی سوچتے ہوں کہ اس کا ماحول پر کیا اثر پڑتا ہے، حقیقت میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ایک اہم سبب ہے۔ مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی تھی کہ گوشت کی پیداوار میں بہت زیادہ پانی اور توانائی خرچ ہوتی ہے اور اس سے میتھین گیس کا بھی اخراج ہوتا ہے۔ اس کے بعد سے میں نے اپنی خوراک میں سبزیوں اور پھلوں کی مقدار بڑھا دی ہے اور گوشت کا استعمال کم کر دیا ہے۔ یہ میرے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا کیونکہ ہم پاکستانی لوگ گوشت خور ہیں، لیکن جب میں نے اس کے ماحول پر مثبت اثرات کے بارے میں سوچا تو مجھے اپنی اس عادت پر فخر محسوس ہوا۔ اسی طرح، مقامی اور موسمی خوراک کا استعمال بھی بہت اہم ہے۔ جب کوئی پھل یا سبزی کسی دور دراز ملک سے درآمد کی جاتی ہے تو اسے جہازوں یا ٹرکوں کے ذریعے لایا جاتا ہے، جس میں بہت زیادہ ایندھن جلتا ہے اور کاربن کا اخراج ہوتا ہے۔
مقامی اور موسمی خوراک کا استعمال
جب میں نے اپنی دادی سے پوچھا کہ وہ صرف موسم کی سبزیاں اور پھل کیوں خریدتی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ اس سے نہ صرف وہ تازہ ہوتے ہیں بلکہ سستے بھی ملتے ہیں۔ اب مجھے اس کی اصل وجہ سمجھ آ رہی ہے۔ مقامی طور پر اُگائی جانے والی سبزیاں اور پھل وہ ہوتے ہیں جنہیں کم نقل و حمل کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے کاربن فٹ پرنٹ کم ہوتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب میں اپنے قریبی بازار سے مقامی سبزیاں خریدتا ہوں تو وہ نہ صرف تازہ ہوتی ہیں بلکہ ان کا ذائقہ بھی بہتر ہوتا ہے۔ اس سے مقامی کسانوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے اور ہماری معیشت بھی مضبوط ہوتی ہے۔ اپنے کھانے کے انتخاب میں اس بات کا خیال رکھنا کہ وہ کہاں سے آیا ہے، ایک چھوٹا سا عمل ہے جس کا بڑا اثر ہو سکتا ہے۔
فضلے میں کمی: کھانے کو ضائع ہونے سے بچائیں
ہم میں سے اکثر لوگ کھانے کو ضائع کر دیتے ہیں، جو کہ بہت بڑا گناہ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے گھر میں کبھی بھی کھانا ضائع نہیں ہوتا تھا، میری والدہ ہمیشہ بچے ہوئے کھانے کو کسی نہ کسی طرح دوبارہ استعمال کر لیتی تھیں یا کسی ضرورت مند کو دے دیتی تھیں۔ جب کھانا ضائع ہوتا ہے تو اس سے میتھین گیس پیدا ہوتی ہے، جو کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جب ہم ضرورت سے زیادہ کھانا پکا لیتے ہیں یا خرید لیتے ہیں تو اسے اکثر ضائع کر دیتے ہیں۔ اس لیے، میں نے اپنے کھانے کی منصوبہ بندی شروع کی ہے اور صرف اتنا ہی خریدتا یا پکاتا ہوں جتنی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے نہ صرف کھانے کی بچت ہوتی ہے بلکہ فضلے میں بھی کمی آتی ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ یہ میرے بجٹ پر بھی مثبت اثر ڈالتا ہے۔
اپنے گھر کو ماحول دوست بنانا: چھوٹی مگر اہم تبدیلیاں
ہمارا گھر صرف چار دیواری نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب ہم اپنے گھروں کو ماحول دوست بناتے ہیں تو نہ صرف ہمارے ماحول پر مثبت اثر پڑتا ہے بلکہ ہماری زندگی میں بھی ایک سکون آ جاتا ہے۔ میں نے پچھلے سال اپنے صحن میں کچھ پھول اور چھوٹے پودے لگائے تھے، اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ان سے نہ صرف میرے گھر کا ماحول خوبصورت ہوا بلکہ ہوا بھی صاف محسوس ہوئی۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے پودے بھی بہت فرق ڈالتے ہیں۔ اسی طرح، پانی کا صحیح استعمال بھی بہت ضروری ہے۔ ہمارے ملک میں پانی کی قلت ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے، اور ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔
| عمل | ماحول پر اثر | ذاتی فائدہ |
|---|---|---|
| برقی آلات بند کرنا | کاربن اخراج میں کمی | بجلی کے بل میں کمی |
| عوامی ٹرانسپورٹ | گاڑیوں کے دھوئیں میں کمی | پٹرول کی بچت، آرام دہ سفر |
| مقامی خوراک | نقل و حمل کے اخراج میں کمی | تازہ، سستی خوراک، مقامی معیشت کی مضبوطی |
| پانی کی بچت | پانی کے وسائل کا تحفظ | پانی کے بل میں کمی |
پانی کا دانشمندانہ استعمال
مجھے یاد ہے کہ ہمارے بزرگ کیسے پانی کی ایک ایک بوند کی قدر کرتے تھے۔ میری دادی اکثر کہتی تھیں کہ “پانی زندگی ہے”۔ آج جب میں اپنے ملک میں پانی کی قلت کی خبریں سنتا ہوں تو دل دکھتا ہے۔ میں نے ذاتی طور پر اپنے گھر میں پانی کی بچت کے طریقے اپنائے ہیں، جیسے کہ نہاتے وقت شاور کی بجائے بالٹی کا استعمال کرنا، اور دانت صاف کرتے وقت نل بند رکھنا۔ اسی طرح، اگر آپ کے گھر میں کوئی نل لیک کر رہا ہے تو اسے فوری طور پر ٹھیک کروائیں، کیونکہ قطرہ قطرہ کر کے بہت سارا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ پودوں کو پانی دینے کے لیے استعمال شدہ پانی (جیسے سبزیوں کو دھونے والا پانی) کا استعمال کرنا بھی ایک بہترین طریقہ ہے، اس سے پانی کی بچت ہوتی ہے اور پودوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔
پودے لگانا اور باغبانی: ہوا کو صاف رکھیں
بچپن میں ہم سب نے یہ سنا ہے کہ پودے ہمارے دوست ہوتے ہیں، اور یہ بالکل سچ ہے۔ پودے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ میرے گھر میں ایک چھوٹا سا باغیچہ ہے، اور مجھے وہاں کام کرتے ہوئے بہت سکون ملتا ہے۔ ہر صبح جب میں تازہ ہوا میں سانس لیتا ہوں تو مجھے پودوں کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پاس زمین نہیں ہے تو آپ گملوں میں بھی پودے لگا سکتے ہیں۔ گھر کے اندر بھی کچھ پودے رکھیں، جیسے ایئر پیوریفائر پودے، جو ہوا کو صاف رکھتے ہیں۔ یہ نہ صرف آپ کے گھر کی خوبصورتی میں اضافہ کریں گے بلکہ آپ کے ماحول کو بھی بہتر بنائیں گے۔ میرا ماننا ہے کہ ہر شخص کو اپنی زندگی میں کم از کم ایک پودا ضرور لگانا چاہیے۔
پیشہ ورانہ زندگی میں ماحول کا تحفظ: ہمارے دفاتر اور کاروبار
صرف گھر ہی نہیں، ہمارے دفاتر اور کاروبار بھی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ میں نے اپنے دفتر میں یہ محسوس کیا ہے کہ اگر ہم سب مل کر چھوٹے چھوٹے اقدامات کریں تو ماحول پر بہت مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے ایک کولیگ نے تجویز دی تھی کہ ہم اپنے دفتر میں پرنٹر کا استعمال کم کریں اور ڈیجیٹل مواصلات کو ترجیح دیں، اور اس سے کاغذ کے استعمال میں نمایاں کمی آئی۔ یہ صرف کاغذ کی بچت نہیں تھی، بلکہ پرنٹنگ کے لیے استعمال ہونے والی بجلی اور کاربن اخراج میں بھی کمی آئی۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب ہم اپنی کمپنی میں توانائی کی بچت کے لیے اقدامات کرتے ہیں تو نہ صرف ماحول کو فائدہ ہوتا ہے بلکہ کمپنی کے اخراجات میں بھی کمی آتی ہے، جو کہ ایک خوشگوار بات ہے۔
دفتر میں توانائی کی بچت کے طریقے
دفتر میں توانائی کی بچت کے کئی طریقے ہیں جو ہم آسانی سے اپنا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، جب آپ اپنے ڈیسک سے اٹھیں تو اپنے کمپیوٹر اور مانیٹر کو بند کر دیں، یا کم از کم سلیپ موڈ پر رکھ دیں۔ اسی طرح، غیر ضروری لائٹس اور ایئر کنڈیشنر کو بند کر دینا چاہیے۔ میرے دفتر میں ہم نے یہ عادت بنائی ہے کہ جب ہم آخری شخص دفتر سے نکلتا ہے تو وہ یقینی بناتا ہے کہ تمام لائٹس اور ایئر کنڈیشنر بند ہوں۔ یہ چھوٹی سی عادت توانائی کی بہت بچت کرتی ہے۔ اسی طرح، دفتر کے آلات جیسے پرنٹرز، کاپی مشینز وغیرہ کو بھی استعمال کے بعد بند کر دینا چاہیے۔ اس سے نہ صرف بجلی کی بچت ہوگی بلکہ ماحول پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔
کاغذ کا کم استعمال اور ڈیجیٹل حل
ڈیجیٹل دور میں، کاغذ کا استعمال کم کرنا ایک اہم قدم ہے۔ مجھے یاد ہے کہ پہلے ہمارے دفتر میں ہر چیز کا پرنٹ آؤٹ لیا جاتا تھا، لیکن اب ہم زیادہ تر کام ای میلز، کلاؤڈ اسٹوریج اور آن لائن دستاویزات کے ذریعے کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف کاغذ کی بچت کرتا ہے بلکہ فائلوں کو سنبھالنے اور تلاش کرنے میں بھی آسانی پیدا کرتا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ڈیجیٹل ہونے سے کام کی رفتار بھی بڑھ جاتی ہے اور غلطیوں کا امکان بھی کم ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کو واقعی کسی چیز کا پرنٹ آؤٹ لینے کی ضرورت ہو تو دونوں طرف پرنٹ کریں اور پرانے کاغذات کو ری سائیکل کریں۔ یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ہمارے سیارے کو کاغذ کے ضیاع سے بچانے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
بچوں کو سکھائیں: نئی نسل کو ماحول دوست بنانا
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا مستقبل روشن ہو تو ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو ماحول کی اہمیت سکھانی ہوگی۔ بچے بہت جلد سیکھتے ہیں اور اگر ہم انہیں بچپن سے ہی ماحول دوست عادات سکھائیں تو وہ بڑے ہو کر ذمہ دار شہری بنیں گے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو میرے والد صاحب مجھے اپنے ساتھ پارک لے جاتے تھے اور وہاں پودے لگاتے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ ہر پودا ہمارے لیے آکسیجن بناتا ہے اور ہمیں صاف ہوا دیتا ہے۔ یہ بات آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔ میرا ذاتی ماننا ہے کہ بچوں کو صرف کتابوں سے نہیں، بلکہ عملی مثالوں سے سکھانا چاہیے۔ جب ہم خود ماحول دوست بنیں گے تو ہمارے بچے بھی ہمیں دیکھ کر سیکھیں گے۔
عملی مثالوں سے ماحول کی اہمیت سکھانا
بچوں کو سکھانے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم خود ان کے سامنے ایک مثال قائم کریں۔ اگر ہم گھر میں ری سائیکلنگ کریں گے، پانی کی بچت کریں گے اور بجلی کا غیر ضروری استعمال نہیں کریں گے تو بچے ہمیں دیکھ کر یہ عادتیں اپنائیں گے۔ میں اپنے چھوٹے بھتیجے کو اکثر یہ سکھاتا ہوں کہ جب وہ کھیل کر فارغ ہو جائے تو لائٹس اور پنکھے بند کر دے۔ اسی طرح، جب ہم بازار جاتے ہیں تو میں اسے پلاسٹک کے تھیلے کے بجائے کپڑے کا تھیلا استعمال کرنے کی ترغیب دیتا ہوں۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے بچوں کے ذہن میں ماحول کے بارے میں مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے۔ انہیں باغبانی کے کاموں میں شامل کریں، تاکہ وہ فطرت سے قریب ہو سکیں اور اس کی قدر کرنا سیکھیں۔
ری سائیکلنگ اور فضلے کی تقسیم کی عادت
بچوں کو ری سائیکلنگ کی اہمیت سکھانا بہت ضروری ہے۔ ہمارے گھر میں ہم نے الگ الگ ڈبے رکھے ہیں، ایک کاغذ کے لیے، ایک پلاسٹک کے لیے اور ایک عام فضلے کے لیے۔ میں اپنے بچوں کو سکھاتا ہوں کہ کون سی چیز کس ڈبے میں ڈالنی ہے۔ یہ ایک کھیل کی طرح ہے اور وہ اسے بہت خوشی سے کرتے ہیں۔ جب انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ کسی چیز کو دوبارہ استعمال میں لانے میں مدد کر رہے ہیں، تو ان میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ انہیں بتائیں کہ کس طرح پرانی بوتلیں نئے کھلونے بن سکتی ہیں یا پرانے کاغذات دوبارہ استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس طرح وہ نہ صرف فضلے کو کم کرنا سیکھیں گے بلکہ وسائل کی قدر کرنا بھی سیکھیں گے۔ یہ ایک بہت ہی اہم سبق ہے جو ان کی پوری زندگی کام آئے گا۔
گلوبل وارمنگ: اپنے ماحول کو بچانے کے چھوٹے چھوٹے طریقے
ہمارے ماحول کا خیال رکھنا: چھوٹے اقدامات سے بڑا اثر
ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا سیارہ ایک خوبصورت تحفہ ہے، لیکن ہم کبھی کبھی اس کی قدر کرنا بھول جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے، جب میں چھوٹا تھا تو گرمیوں کی چھٹیاں نانی کے گاؤں میں گزرتی تھیں، جہاں بجلی کا استعمال بہت محدود تھا اور لوگ سورج کی روشنی پر زیادہ انحصار کرتے تھے۔ آج جب میں اپنے بل دیکھتا ہوں اور شہروں میں بجلی کے بے تحاشا استعمال کو دیکھتا ہوں تو دل میں ایک ٹیس سی اٹھتی ہے۔ میرے پیارے دوستو، گرین ہاؤس گیسوں میں کمی کی شروعات ہمارے اپنے گھروں سے ہوتی ہے، اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ میں نے خود تجربہ کیا ہے کہ اگر ہم چھوٹی چھوٹی عادتیں اپنا لیں تو کتنا فرق پڑ سکتا ہے۔ جب میں نے اپنے گھر میں غیر ضروری لائٹس اور پنکھے بند کرنے شروع کیے تو نہ صرف بجلی کا بل کم آیا بلکہ مجھے ایک عجیب سی تسلی بھی محسوس ہوئی۔ اسی طرح، پرانے سامان کو پھینکنے کے بجائے اسے دوبارہ استعمال میں لانا یا کسی کو دے دینا ایک بہت اچھی عادت ہے۔ یہ نہ صرف فضلے کو کم کرتا ہے بلکہ وسائل کو بھی بچاتا ہے۔ سوچیں، ایک ریفریجریٹر یا واشنگ مشین جو اب آپ کے کام کی نہیں، وہ کسی اور کے لیے کتنی کارآمد ثابت ہو سکتی ہے!
یہ صرف پیسے بچانے کی بات نہیں، یہ ہمارے سیارے کی بقا کی بات ہے۔
گھر میں توانائی کا بہتر استعمال
ہمارے گھروں میں توانائی کا استعمال گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک بڑا حصہ ڈالتا ہے۔ میں نے اپنی والدہ کو اکثر دیکھا ہے کہ وہ نہ صرف تمام غیر ضروری برقی آلات کو بند کر دیتی ہیں بلکہ یہ بھی یقینی بناتی ہیں کہ سردیوں میں کمرے کو گرم رکھنے کے لیے کھڑکیاں اور دروازے اچھی طرح سے بند ہوں۔ اس سے ہیٹر کا استعمال کم ہوتا ہے اور توانائی بچتی ہے۔ اسی طرح، گرم پانی کے لیے گیزر کا استعمال بھی ہمیں سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ صرف ضرورت کے وقت ہی اسے آن کریں، اور جب کام ہو جائے تو بند کر دیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب میں اپنے موبائل چارجر کو سوئچ سے نہیں نکالتا تھا، تو وہ ہلکا سا گرم رہتا تھا، جس کا مطلب ہے کہ وہ توانائی استعمال کر رہا ہے۔ اب میں ہر بار چارجنگ کے بعد سوئچ آف کر دیتا ہوں، اور یہ عادت اب میری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔
پرانے سامان کو نیا جیون دینا

ہمارے معاشرے میں “استعمال کرو اور پھینک دو” کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جو کہ افسوسناک ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے بزرگ کیسے پرانی چیزوں کو مرمت کر کے یا ان کو کسی اور کام میں لا کر دوبارہ استعمال کرتے تھے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب میں نے اپنی پرانی کرسی کو پھینکنے کے بجائے اس کی مرمت کروائی، تو وہ نہ صرف دوبارہ قابل استعمال ہو گئی بلکہ مجھے اس پر فخر بھی محسوس ہوا۔ اسی طرح، پرانے کپڑوں سے ٹاٹ یا صفائی کے کپڑے بنانا، یا ٹوٹے ہوئے فرنیچر کو کسی ماہر کاریگر سے ٹھیک کروانا، یہ سب چھوٹے چھوٹے اقدامات ہیں جو فضلے کو کم کرتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس کوئی چیز ایسی ہے جو اب آپ کے کام کی نہیں رہی، تو اسے پھینکنے کے بجائے کسی ضرورت مند کو دے دیں یا اسے کسی ایسے شخص کو بیچ دیں جو اسے استعمال کر سکے۔ اس طرح ہم ایک پائیدار طرز زندگی اپنا سکتے ہیں۔
سبز سفر: ماحول دوست نقل و حمل کے طریقے
ہم میں سے اکثر لوگ اپنے روزمرہ کے سفر کے لیے گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں، اور یہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ میرے ایک دوست نے حال ہی میں اپنی کار بیچ کر موٹر سائیکل لے لی، اس کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف پٹرول کی بچت ہوتی ہے بلکہ ٹریفک میں بھی آسانی رہتی ہے۔ میں خود ذاتی طور پر یہ محسوس کرتا ہوں کہ جب میں کبھی کبھار پیدل چلتا ہوں یا سائیکل کا استعمال کرتا ہوں تو مجھے ایک الگ ہی قسم کی تازگی اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔ یہ صرف ماحول کے لیے اچھا نہیں بلکہ ہماری صحت کے لیے بھی بہترین ہے۔ جب میں صبح سویرے پیدل چل کر دفتر جاتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنے دن کا آغاز ہی ایک مثبت انداز میں کیا ہے۔ ٹریفک کے شور اور دھوئیں سے بچ کر کھلی فضا میں سانس لینا ایک بہترین تجربہ ہے۔ ہم پاکستانی اکثر ٹریفک جام میں پھنس کر پریشان ہوتے ہیں، لیکن اگر ہم میں سے کچھ لوگ بھی عوامی نقل و حمل یا ماحول دوست طریقوں کو اپنائیں تو شاید ٹریفک کا مسئلہ بھی کچھ حد تک حل ہو جائے۔ سوچیں، اگر آپ ہر ہفتے میں صرف دو دن بھی گاڑی کا استعمال ترک کر دیں اور بس یا رکشہ سے سفر کریں، تو اس سے کتنا فرق پڑے گا!
گاڑی کے بجائے عوامی سواری کا انتخاب
مجھے یاد ہے، جب میں کالج میں تھا تو ہم سب دوست بس پر سفر کرتے تھے۔ اس وقت ہمیں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ ہم ماحول کے لیے کتنا اچھا کر رہے ہیں۔ اب جب میں اپنے شہر میں میٹرو بس یا دیگر عوامی نقل و حمل کے ذرائع دیکھتا ہوں تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ جب میں عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کرتا ہوں تو مجھے گاڑی چلانے کی تھکان سے بچت ہوتی ہے اور میں راستے میں کچھ پڑھ بھی سکتا ہوں یا اپنے دوستوں سے بات کر سکتا ہوں۔ یہ نہ صرف پٹرول کے اخراجات بچاتا ہے بلکہ کاربن کے اخراج کو بھی کم کرتا ہے۔ جب ایک ہی بس میں پچاس لوگ سفر کرتے ہیں تو یہ پچاس گاڑیوں کے مقابلے میں بہت کم دھواں چھوڑتی ہے۔ اگر ممکن ہو تو، اپنے دفتر یا کام کی جگہ پر جانے کے لیے کار پولنگ کا انتظام کریں، یعنی چند دوست مل کر ایک ہی گاڑی میں سفر کریں، جس سے سب کے اخراجات بھی کم ہوں گے اور ماحول پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔
پیدل چلنا اور سائیکل چلانا: صحت بھی، ماحول بھی
کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنا وزن کم کرنے کے لیے پیدل چلنا شروع کیا اور مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس سے نہ صرف میرا وزن کم ہوا بلکہ میں ذہنی طور پر بھی بہت پرسکون محسوس کرنے لگا۔ پیدل چلنا اور سائیکل چلانا ماحول دوست نقل و حمل کے بہترین طریقے ہیں۔ اگر آپ کا کام نزدیک ہے تو گاڑی لینے کے بجائے پیدل چلنے یا سائیکل چلانے کا انتخاب کریں۔ یہ نہ صرف آپ کو تازہ ہوا میں سانس لینے کا موقع دے گا بلکہ آپ کو ورزش بھی کروائے گا، جس سے آپ کی صحت بہتر ہوگی۔ مجھے ذاتی طور پر شہر کی بھاگ دوڑ میں سائیکل چلاتے ہوئے بہت سکون محسوس ہوتا ہے، اور یہ مجھے فطرت سے قریب تر محسوس کراتا ہے۔ اس سے آپ کو پٹرول کے اخراجات بھی نہیں اٹھانے پڑیں گے، اور پارکنگ کی پریشانی بھی نہیں ہوگی۔ یہ ایک ایسا “ون-ون” حل ہے جس میں آپ بھی فائدے میں رہتے ہیں اور ہمارا سیارہ بھی۔
خوراک اور فصلیں: ہمارے کھانے کے انتخاب کا اثر
ہمارا کھانا، جس کے بارے میں ہم شاید ہی کبھی سوچتے ہوں کہ اس کا ماحول پر کیا اثر پڑتا ہے، حقیقت میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ایک اہم سبب ہے۔ مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی تھی کہ گوشت کی پیداوار میں بہت زیادہ پانی اور توانائی خرچ ہوتی ہے اور اس سے میتھین گیس کا بھی اخراج ہوتا ہے۔ اس کے بعد سے میں نے اپنی خوراک میں سبزیوں اور پھلوں کی مقدار بڑھا دی ہے اور گوشت کا استعمال کم کر دیا ہے۔ یہ میرے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا کیونکہ ہم پاکستانی لوگ گوشت خور ہیں، لیکن جب میں نے اس کے ماحول پر مثبت اثرات کے بارے میں سوچا تو مجھے اپنی اس عادت پر فخر محسوس ہوا۔ اسی طرح، مقامی اور موسمی خوراک کا استعمال بھی بہت اہم ہے۔ جب کوئی پھل یا سبزی کسی دور دراز ملک سے درآمد کی جاتی ہے تو اسے جہازوں یا ٹرکوں کے ذریعے لایا جاتا ہے، جس میں بہت زیادہ ایندھن جلتا ہے اور کاربن کا اخراج ہوتا ہے۔
مقامی اور موسمی خوراک کا استعمال
جب میں نے اپنی دادی سے پوچھا کہ وہ صرف موسم کی سبزیاں اور پھل کیوں خریدتی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ اس سے نہ صرف وہ تازہ ہوتے ہیں بلکہ سستے بھی ملتے ہیں۔ اب مجھے اس کی اصل وجہ سمجھ آ رہی ہے۔ مقامی طور پر اُگائی جانے والی سبزیاں اور پھل وہ ہوتے ہیں جنہیں کم نقل و حمل کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے کاربن فٹ پرنٹ کم ہوتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب میں اپنے قریبی بازار سے مقامی سبزیاں خریدتا ہوں تو وہ نہ صرف تازہ ہوتی ہیں بلکہ ان کا ذائقہ بھی بہتر ہوتا ہے۔ اس سے مقامی کسانوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے اور ہماری معیشت بھی مضبوط ہوتی ہے۔ اپنے کھانے کے انتخاب میں اس بات کا خیال رکھنا کہ وہ کہاں سے آیا ہے، ایک چھوٹا سا عمل ہے جس کا بڑا اثر ہو سکتا ہے۔
فضلے میں کمی: کھانے کو ضائع ہونے سے بچائیں
ہم میں سے اکثر لوگ کھانے کو ضائع کر دیتے ہیں، جو کہ بہت بڑا گناہ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے گھر میں کبھی بھی کھانا ضائع نہیں ہوتا تھا، میری والدہ ہمیشہ بچے ہوئے کھانے کو کسی نہ کسی طرح دوبارہ استعمال کر لیتی تھیں یا کسی ضرورت مند کو دے دیتی تھیں۔ جب کھانا ضائع ہوتا ہے تو اس سے میتھین گیس پیدا ہوتی ہے، جو کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جب ہم ضرورت سے زیادہ کھانا پکا لیتے ہیں یا خرید لیتے ہیں تو اسے اکثر ضائع کر دیتے ہیں۔ اس لیے، میں نے اپنے کھانے کی منصوبہ بندی شروع کی ہے اور صرف اتنا ہی خریدتا یا پکاتا ہوں جتنی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے نہ صرف کھانے کی بچت ہوتی ہے بلکہ فضلے میں بھی کمی آتی ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ یہ میرے بجٹ پر بھی مثبت اثر ڈالتا ہے۔
اپنے گھر کو ماحول دوست بنانا: چھوٹی مگر اہم تبدیلیاں
ہمارا گھر صرف چار دیواری نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب ہم اپنے گھروں کو ماحول دوست بناتے ہیں تو نہ صرف ہمارے ماحول پر مثبت اثر پڑتا ہے بلکہ ہماری زندگی میں بھی ایک سکون آ جاتا ہے۔ میں نے پچھلے سال اپنے صحن میں کچھ پھول اور چھوٹے پودے لگائے تھے، اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ان سے نہ صرف میرے گھر کا ماحول خوبصورت ہوا بلکہ ہوا بھی صاف محسوس ہوئی۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے پودے بھی بہت فرق ڈالتے ہیں۔ اسی طرح، پانی کا صحیح استعمال بھی بہت ضروری ہے۔ ہمارے ملک میں پانی کی قلت ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے، اور ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔
| عمل | ماحول پر اثر | ذاتی فائدہ |
|---|---|---|
| برقی آلات بند کرنا | کاربن اخراج میں کمی | بجلی کے بل میں کمی |
| عوامی ٹرانسپورٹ | گاڑیوں کے دھوئیں میں کمی | پٹرول کی بچت، آرام دہ سفر |
| مقامی خوراک | نقل و حمل کے اخراج میں کمی | تازہ، سستی خوراک، مقامی معیشت کی مضبوطی |
| پانی کی بچت | پانی کے وسائل کا تحفظ | پانی کے بل میں کمی |
پانی کا دانشمندانہ استعمال
مجھے یاد ہے کہ ہمارے بزرگ کیسے پانی کی ایک ایک بوند کی قدر کرتے تھے۔ میری دادی اکثر کہتی تھیں کہ “پانی زندگی ہے”۔ آج جب میں اپنے ملک میں پانی کی قلت کی خبریں سنتا ہوں تو دل دکھتا ہے۔ میں نے ذاتی طور پر اپنے گھر میں پانی کی بچت کے طریقے اپنائے ہیں، جیسے کہ نہاتے وقت شاور کی بجائے بالٹی کا استعمال کرنا، اور دانت صاف کرتے وقت نل بند رکھنا۔ اسی طرح، اگر آپ کے گھر میں کوئی نل لیک کر رہا ہے تو اسے فوری طور پر ٹھیک کروائیں، کیونکہ قطرہ قطرہ کر کے بہت سارا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ پودوں کو پانی دینے کے لیے استعمال شدہ پانی (جیسے سبزیوں کو دھونے والا پانی) کا استعمال کرنا بھی ایک بہترین طریقہ ہے، اس سے پانی کی بچت ہوتی ہے اور پودوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔
پودے لگانا اور باغبانی: ہوا کو صاف رکھیں
بچپن میں ہم سب نے یہ سنا ہے کہ پودے ہمارے دوست ہوتے ہیں، اور یہ بالکل سچ ہے۔ پودے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ میرے گھر میں ایک چھوٹا سا باغیچہ ہے، اور مجھے وہاں کام کرتے ہوئے بہت سکون ملتا ہے۔ ہر صبح جب میں تازہ ہوا میں سانس لیتا ہوں تو مجھے پودوں کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پاس زمین نہیں ہے تو آپ گملوں میں بھی پودے لگا سکتے ہیں۔ گھر کے اندر بھی کچھ پودے رکھیں، جیسے ایئر پیوریفائر پودے، جو ہوا کو صاف رکھتے ہیں۔ یہ نہ صرف آپ کے گھر کی خوبصورتی میں اضافہ کریں گے بلکہ آپ کے ماحول کو بھی بہتر بنائیں گے۔ میرا ماننا ہے کہ ہر شخص کو اپنی زندگی میں کم از کم ایک پودا ضرور لگانا چاہیے۔
پیشہ ورانہ زندگی میں ماحول کا تحفظ: ہمارے دفاتر اور کاروبار
صرف گھر ہی نہیں، ہمارے دفاتر اور کاروبار بھی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ میں نے اپنے دفتر میں یہ محسوس کیا ہے کہ اگر ہم سب مل کر چھوٹے چھوٹے اقدامات کریں تو ماحول پر بہت مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے ایک کولیگ نے تجویز دی تھی کہ ہم اپنے دفتر میں پرنٹر کا استعمال کم کریں اور ڈیجیٹل مواصلات کو ترجیح دیں، اور اس سے کاغذ کے استعمال میں نمایاں کمی آئی۔ یہ صرف کاغذ کی بچت نہیں تھی، بلکہ پرنٹنگ کے لیے استعمال ہونے والی بجلی اور کاربن اخراج میں بھی کمی آئی۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب ہم اپنی کمپنی میں توانائی کی بچت کے لیے اقدامات کرتے ہیں تو نہ صرف ماحول کو فائدہ ہوتا ہے بلکہ کمپنی کے اخراجات میں بھی کمی آتی ہے، جو کہ ایک خوشگوار بات ہے۔
دفتر میں توانائی کی بچت کے طریقے
دفتر میں توانائی کی بچت کے کئی طریقے ہیں جو ہم آسانی سے اپنا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، جب آپ اپنے ڈیسک سے اٹھیں تو اپنے کمپیوٹر اور مانیٹر کو بند کر دیں، یا کم از کم سلیپ موڈ پر رکھ دیں۔ اسی طرح، غیر ضروری لائٹس اور ایئر کنڈیشنر کو بند کر دینا چاہیے۔ میرے دفتر میں ہم نے یہ عادت بنائی ہے کہ جب ہم آخری شخص دفتر سے نکلتا ہے تو وہ یقینی بناتا ہے کہ تمام لائٹس اور ایئر کنڈیشنر بند ہوں۔ یہ چھوٹی سی عادت توانائی کی بہت بچت کرتی ہے۔ اسی طرح، دفتر کے آلات جیسے پرنٹرز، کاپی مشینز وغیرہ کو بھی استعمال کے بعد بند کر دینا چاہیے۔ اس سے نہ صرف بجلی کی بچت ہوگی بلکہ ماحول پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔
کاغذ کا کم استعمال اور ڈیجیٹل حل
ڈیجیٹل دور میں، کاغذ کا استعمال کم کرنا ایک اہم قدم ہے۔ مجھے یاد ہے کہ پہلے ہمارے دفتر میں ہر چیز کا پرنٹ آؤٹ لیا جاتا تھا، لیکن اب ہم زیادہ تر کام ای میلز، کلاؤڈ اسٹوریج اور آن لائن دستاویزات کے ذریعے کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف کاغذ کی بچت کرتا ہے بلکہ فائلوں کو سنبھالنے اور تلاش کرنے میں بھی آسانی پیدا کرتا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ڈیجیٹل ہونے سے کام کی رفتار بھی بڑھ جاتی ہے اور غلطیوں کا امکان بھی کم ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کو واقعی کسی چیز کا پرنٹ آؤٹ لینے کی ضرورت ہو تو دونوں طرف پرنٹ کریں اور پرانے کاغذات کو ری سائیکل کریں۔ یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ہمارے سیارے کو کاغذ کے ضیاع سے بچانے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
بچوں کو سکھائیں: نئی نسل کو ماحول دوست بنانا
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا مستقبل روشن ہو تو ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو ماحول کی اہمیت سکھانی ہوگی۔ بچے بہت جلد سیکھتے ہیں اور اگر ہم انہیں بچپن سے ہی ماحول دوست عادات سکھائیں تو وہ بڑے ہو کر ذمہ دار شہری بنیں گے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو میرے والد صاحب مجھے اپنے ساتھ پارک لے جاتے تھے اور وہاں پودے لگاتے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ ہر پودا ہمارے لیے آکسیجن بناتا ہے اور ہمیں صاف ہوا دیتا ہے۔ یہ بات آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔ میرا ذاتی ماننا ہے کہ بچوں کو صرف کتابوں سے نہیں، بلکہ عملی مثالوں سے سکھانا چاہیے۔ جب ہم خود ماحول دوست بنیں گے تو ہمارے بچے بھی ہمیں دیکھ کر سیکھیں گے۔
عملی مثالوں سے ماحول کی اہمیت سکھانا
بچوں کو سکھانے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم خود ان کے سامنے ایک مثال قائم کریں۔ اگر ہم گھر میں ری سائیکلنگ کریں گے، پانی کی بچت کریں گے اور بجلی کا غیر ضروری استعمال نہیں کریں گے تو بچے ہمیں دیکھ کر یہ عادتیں اپنائیں گے۔ میں اپنے چھوٹے بھتیجے کو اکثر یہ سکھاتا ہوں کہ جب وہ کھیل کر فارغ ہو جائے تو لائٹس اور پنکھے بند کر دے۔ اسی طرح، جب ہم بازار جاتے ہیں تو میں اسے پلاسٹک کے تھیلے کے بجائے کپڑے کا تھیلا استعمال کرنے کی ترغیب دیتا ہوں۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے بچوں کے ذہن میں ماحول کے بارے میں مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے۔ انہیں باغبانی کے کاموں میں شامل کریں، تاکہ وہ فطرت سے قریب ہو سکیں اور اس کی قدر کرنا سیکھیں۔
ری سائیکلنگ اور فضلے کی تقسیم کی عادت
بچوں کو ری سائیکلنگ کی اہمیت سکھانا بہت ضروری ہے۔ ہمارے گھر میں ہم نے الگ الگ ڈبے رکھے ہیں، ایک کاغذ کے لیے، ایک پلاسٹک کے لیے اور ایک عام فضلے کے لیے۔ میں اپنے بچوں کو سکھاتا ہوں کہ کون سی چیز کس ڈبے میں ڈالنی ہے۔ یہ ایک کھیل کی طرح ہے اور وہ اسے بہت خوشی سے کرتے ہیں۔ جب انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ کسی چیز کو دوبارہ استعمال میں لانے میں مدد کر رہے ہیں، تو ان میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ انہیں بتائیں کہ کس طرح پرانی بوتلیں نئے کھلونے بن سکتی ہیں یا پرانے کاغذات دوبارہ استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس طرح وہ نہ صرف فضلے کو کم کرنا سیکھیں گے بلکہ وسائل کی قدر کرنا بھی سیکھیں گے۔ یہ ایک بہت ہی اہم سبق ہے جو ان کی پوری زندگی کام آئے گا۔
گلوبل وارمنگ: اپنے ماحول کو بچانے کے چھوٹے چھوٹے طریقے
글을마치며
میرے پیارے پڑھنے والو، مجھے امید ہے کہ آج کی یہ پوسٹ آپ کو اپنے سیارے کی حفاظت کے لیے چھوٹے مگر مؤثر اقدامات کرنے کی ترغیب دے گی। یہ صرف کسی ایک کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہم سب کی اجتماعی کاوشوں سے ہی ہم ایک سرسبز اور صحت مند مستقبل بنا سکتے ہیں۔ میں نے خود یہ سب تجربہ کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اگر آپ بھی ان عادات کو اپنائیں گے تو آپ کو بھی بہت مثبت تبدیلیاں محسوس ہوں گی। تو آئیں، آج ہی سے اپنے ماحول کے لیے کچھ بہتر کرنے کا عہد کریں، کیونکہ ہمارا سیارہ ہمارا گھر ہے اور ہمیں اس کا خیال رکھنا ہے۔
알아두면 쓸모 있는 정보
1. گھر میں غیر ضروری لائٹس اور پنکھے بند کر کے، اور استعمال میں نہ آنے والے برقی آلات کے پلگ نکال کر توانائی کی بچت کریں۔
2. مختصر فاصلے کے لیے پیدل چلیں یا سائیکل کا استعمال کریں، اور طویل سفر کے لیے عوامی ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیں۔
3. کھانے کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے اپنی خوراک کی منصوبہ بندی کریں، صرف ضرورت کے مطابق خریدیں اور پکائیں۔
4. پرانی چیزوں کو پھینکنے کے بجائے انہیں دوبارہ استعمال کریں یا ضرورت مندوں کو دیں، اور ری سائیکلنگ کی عادت اپنائیں۔
5. اپنے گھر اور دفتر میں پودے لگائیں، کیونکہ پودے ہوا کو صاف کرتے ہیں اور ماحول کو خوشگوار بناتے ہیں۔
중요 사항 정리
اس بلاگ پوسٹ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر شخص اپنے روزمرہ کے معمولات میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لا کر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے اور ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان اقدامات میں گھر اور دفتر میں توانائی کی بچت، ماحول دوست نقل و حمل کے طریقے اپنانا، خوراک کے بہتر انتخاب، اور بچوں کو ماحول کی اہمیت سکھانا شامل ہیں। یہ تمام کوششیں نہ صرف ماحول کے لیے فائدہ مند ہیں بلکہ ہماری صحت اور معاشی حالت پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہیں।
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: کیا واقعی میرے چھوٹے سے اقدامات سے ماحول پر کوئی فرق پڑ سکتا ہے، یا یہ صرف ایک بڑا حکومتی مسئلہ ہے؟
ج: میرے پیارے دوستو، جب میں نے پہلی بار اس موضوع پر سوچنا شروع کیا تو میرے ذہن میں بھی بالکل یہی سوال آیا تھا۔ مجھے لگا کہ میں اکیلا کیا کر سکتا ہوں؟ یہ تو بڑے بڑے کارخانوں اور حکومتوں کا کام ہے۔ لیکن میرا ذاتی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ آپ کا ہر چھوٹا قدم، خواہ وہ ایک لائٹ بند کرنا ہو، غیر ضروری پلاسٹک کا استعمال ترک کرنا ہو، یا گاڑی کی بجائے پیدل چلنا ہو، یہ سب مل کر ایک بہت بڑا مثبت فرق پیدا کرتے ہیں۔ جس طرح ایک چھوٹا قطرہ سمندر بناتا ہے، بالکل اسی طرح ہمارے چھوٹے چھوٹے اقدامات مل کر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، ہم سب اس زمین کے رکھوالے ہیں، اور ہماری ہر کوشش شمار ہوتی ہے۔ جب آپ خود کوئی چھوٹا سا کام کرتے ہیں، تو آپ اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھی متاثر کرتے ہیں، اور یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب میں نے اپنے گھر میں بجلی کا کم استعمال شروع کیا تو میرے پڑوسیوں نے بھی مجھ سے پوچھنا شروع کیا اور اب وہ بھی اس پر عمل کر رہے ہیں۔ یہ ایک اچھی مثال ہے کہ ہم کیسے تبدیلی لا سکتے ہیں!
س: ہم اپنے گھروں میں بجلی اور گیس کا استعمال کیسے کم کر سکتے ہیں تاکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی آئے؟
ج: یہ ایک بہت اہم سوال ہے کیونکہ ہمارے گھر ہمارے سیارے پر کافی اثر ڈالتے ہیں۔ جب میں نے اپنے گھر میں توانائی کی بچت کے طریقے اپنانے شروع کیے تو مجھے حیرت ہوئی کہ کتنی آسانی سے ہم اخراج کو کم کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو، بجلی کے وہ آلات جو استعمال میں نہ ہوں، انہیں بند کر دیں۔ خاص طور پر رات کو سونے سے پہلے تمام غیر ضروری لائٹس اور پنکھے بند کرنا نہ بھولیں۔ دوسرا، اپنے گھر میں LED بلب استعمال کریں، یہ عام بلبوں کے مقابلے میں بہت کم بجلی استعمال کرتے ہیں اور زیادہ دیر تک چلتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس پرانے فریج یا AC ہیں تو انہیں نئے توانائی بچانے والے آلات سے بدلنے کی کوشش کریں، یہ وقتی طور پر مہنگے لگ سکتے ہیں لیکن طویل مدت میں آپ کے بجلی کے بل بھی کم کریں گے اور ماحول کو بھی فائدہ پہنچائیں گے۔ گرمیوں میں ایئر کنڈیشنر کا درجہ حرارت بہت کم رکھنے کی بجائے 26 یا 27 ڈگری پر رکھیں، یہ بھی کافی آرام دہ ہوتا ہے اور بجلی کی بچت ہوتی ہے۔ سردیوں میں ہیٹر کا بے جا استعمال نہ کریں، بلکہ گرم کپڑوں کا استعمال بڑھائیں اور اگر ہیٹر ضروری ہو تو اسے صرف ضرورت کے وقت استعمال کریں۔ یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں نہ صرف آپ کی جیب پر بوجھ کم کریں گی بلکہ ماحول کو بھی سانس لینے کا موقع دیں گی۔
س: درخت لگانا یا گھر میں سبزیاں اگانا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے میں کیسے مدد دیتا ہے؟
ج: یہ وہ طریقہ ہے جسے میں نے خود آزما کر دیکھا ہے اور مجھے اس سے بہت سکون ملتا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب میں نے پہلی بار اپنے گھر کے پچھواڑے میں کچھ سبزیاں اگائیں، وہ ایک بہت خاص تجربہ تھا۔ درخت اور پودے ہمارے سیارے کے پھیپھڑے ہیں!
وہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ (ایک اہم گرین ہاؤس گیس) کو جذب کرتے ہیں اور ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ جتنے زیادہ درخت ہوں گے، اتنی ہی زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب ہو گی اور ہماری فضا صاف ہو گی۔ اگر آپ کے پاس جگہ ہے تو اپنے گھر کے صحن میں یا گملوں میں پودے ضرور لگائیں۔ اگر آپ سبزیوں کے پودے لگاتے ہیں تو اس کا ایک اور زبردست فائدہ یہ ہے کہ آپ کو بازار سے سبزیاں خریدنے کی ضرورت کم پڑے گی، جس کا مطلب ہے کہ سبزیوں کی نقل و حمل میں استعمال ہونے والے ایندھن (اور اس سے ہونے والے اخراج) میں بھی کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ، گھر میں تازہ سبزیاں اگانے سے آپ کو صاف اور صحت مند خوراک ملتی ہے۔ اپنی سوسائٹی یا محلے میں شجرکاری مہم میں حصہ لینا بھی ایک بہترین قدم ہے، یا اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر ایک کمیونٹی گارڈن بنائیں۔ یہ صرف ماحول کو نہیں، بلکہ ہمارے ذہن اور روح کو بھی سکون دیتا ہے۔





