ماحولیاتی قوانین: ان قواعد و ضوابط کو جانیں اور حیرت انگیز نتائج پائیں

webmaster

환경법과 규제 - A serene landscape of a clean, vibrant Pakistani city park at sunrise. In the foreground, a young Pa...

میرے عزیز قارئین، آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کرنے والے ہیں جو ہم سب کی زندگیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے – ہمارے ارد گرد کا ماحول اور اس کے تحفظ کے لیے بنے قوانین۔ ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے شہروں کی فضا کس طرح بدل رہی ہے، لاہور جیسی جگہیں اسموگ کی لپیٹ میں ہیں اور پانی کے مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ میں نے خود محسوس کیا ہے کہ کیسے موسم کے مزاج بدل رہے ہیں اور ہمارے بزرگ جو کہانیاں سناتے تھے سرسبز میدانوں اور ٹھنڈی ہواؤں کی، وہ اب صرف خواب لگتی ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر اور بین الاقوامی طور پر کیا کوششیں ہو رہی ہیں؟ حال ہی میں پنجاب میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے فورس بنائی گئی ہے اور پلاسٹک آلودگی جیسی باتوں پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ ہمیں ایک ایسے مستقبل کی طرف لے جا رہا ہے جہاں ہمارے سیارے کو بچانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ آئیے، آج اس بلاگ پوسٹ میں ہم ماحولیاتی قوانین اور ضوابط کی گہرائی میں اتر کر ان سب باتوں کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔

환경법과 규제 관련 이미지 1

ہمارے سیارے کو بچانے کی دوڑ: عالمی کوششیں اور ہماری ذمہ داریاں

مجھے یاد ہے جب ہم چھوٹے تھے تو اپنے بزرگوں سے سنا کرتے تھے کہ کس طرح ٹھنڈی ہوائیں چلتی تھیں اور ہمارے ارد گرد ہر چیز سرسبز ہوتی تھی۔ آج جب میں اپنے چاروں طرف دیکھتا ہوں تو وہ دلکش مناظر صرف یادوں کا حصہ بن کر رہ گئے ہیں۔ آب و ہوا میں تبدیلی اور ماحولیاتی بگاڑ اب کوئی دور دراز کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ہمارے گھر کی دہلیز تک آ پہنچا ہے۔ عالمی سطح پر اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بے شمار معاہدے اور قوانین بنائے گئے ہیں، جن کا مقصد زمین کو مزید تباہی سے بچانا ہے۔ پیرس معاہدہ، کیوٹو پروٹوکول اور کئی دیگر بین الاقوامی کنونشنز اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت ممالک کو اپنے کاربن کے اخراج کو کم کرنے، جنگلات کو محفوظ رکھنے اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے کے لیے اہداف دیے گئے ہیں۔ مجھے یہ سوچ کر افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے سیارے کو اس حال تک پہنچا دیا، لیکن مجھے یہ امید بھی ہے کہ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی یہ کوششیں ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر اور صاف ستھھرا ماحول چھوڑ کر جائیں۔ یہ محض حکومتی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد، ہر گھر اور ہر معاشرے کی مشترکہ کوشش سے ہی ممکن ہے۔

پیرس معاہدہ: ایک امید کی کرن

پیرس معاہدہ ایک ایسا سنگ میل ہے جس نے دنیا بھر کے ممالک کو ایک چھتری تلے جمع کیا تاکہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے 2 ڈگری سیلسیس سے کافی نیچے رکھا جائے، اور مزید کوشش کی جائے کہ اسے 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود کیا جا سکے۔ یہ ایک بہت بڑا ہدف ہے، لیکن اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب بین الاقوامی سطح پر ایسے معاہدے ہوتے ہیں تو ان کا اثر مقامی سطح پر بھی پڑتا ہے اور حکومتیں ماحولیاتی تحفظ کے لیے مزید سنجیدہ اقدامات کرتی ہیں۔ یہ معاہدہ ہمیں ایک مشترکہ سمت دیتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔

کیوٹو پروٹوکول اور اس کے بعد کی پیش رفت

کیوٹو پروٹوکول ایک ابتدائی قدم تھا جس نے ترقی یافتہ ممالک پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کی قانونی پابندیاں عائد کیں۔ اگرچہ اس کی کامیابی پر بحث ہوتی رہی ہے، لیکن اس نے ماحولیاتی قوانین کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد سے عالمی برادری نے مزید مضبوط اور جامع حکمت عملیوں پر کام کیا ہے، جیسا کہ پیرس معاہدہ۔ یہ تمام اقدامات ہمیں یہ باور کراتے ہیں کہ عالمی سطح پر سوچنا اور مقامی سطح پر عمل کرنا ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔ مجھے ذاتی طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ بین الاقوامی تعاون کے بغیر ہم اس جنگ کو نہیں جیت سکتے۔

پاکستانی قوانین کی پکار: کیا ہم سن رہے ہیں؟

Advertisement

یقین مانیں، ہمارے اپنے ملک میں بھی ماحولیاتی تحفظ کے لیے قوانین کی کوئی کمی نہیں ہے۔ پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کا ایک جامع قانون، انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ (EPA) 1997ء موجود ہے، جو ماحولیاتی آلودگی کو روکنے، ماحول کو بہتر بنانے اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان قوانین پر عمل درآمد ایک بہت بڑا چیلنج رہا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے فیکٹریاں بغیر کسی فلٹریشن کے اپنا زہریلا فضلہ دریاؤں میں بہا رہی ہیں اور کیسے شہری علاقوں میں کچرے کے ڈھیر عام معمول بن چکے ہیں۔ اس قانون کے تحت ماحولیاتی جانچ پڑتال (Environmental Impact Assessment – EIA) لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ کسی بھی بڑے منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کا پہلے سے جائزہ لیا جا سکے۔ مجھے لگتا ہے کہ قوانین کا موجود ہونا ہی کافی نہیں، بلکہ ان پر سختی سے عمل کروانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جب تک ہم اپنی زمین اور پانی کو اپنے بچوں کی امانت نہیں سمجھیں گے، یہ صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی۔ میری دلی خواہش ہے کہ ہم اپنے قوانین کا احترام کریں اور انہیں صرف کتابوں کی زینت نہ بنے رہنے دیں۔

انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997ء کی طاقت

یہ قانون پاکستان میں ماحولیاتی نظم و نسق کی بنیاد ہے۔ اس کے تحت نہ صرف آلودگی پھیلانے والے صنعتی یونٹس پر جرمانے اور سزائیں عائد کی جا سکتی ہیں، بلکہ عوام کو بھی ماحولیاتی تحفظ میں شامل ہونے کا موقع ملتا ہے۔ مجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس قانون میں شہریوں کو ماحولیاتی مسائل پر آواز اٹھانے کا حق دیا گیا ہے۔ یہ قانون ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہم سب اس سیارے کے محافظ ہیں۔

EIA کی اہمیت اور اس پر عمل درآمد

ماحولیاتی جانچ پڑتال (EIA) کسی بھی نئے منصوبے کی منظوری سے پہلے اس کے ماحولیاتی اثرات کا سائنسی تجزیہ ہے۔ یہ بہت اہم ہے کیونکہ اس سے ہم کسی بھی منصوبے کے نقصانات کو پہلے سے جان کر انہیں کم کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے، میں نے کئی ایسے منصوبے دیکھے ہیں جہاں EIA کو یا تو نظرانداز کیا جاتا ہے یا اسے سرسری طور پر انجام دیا جاتا ہے، جس کے نتائج ہمیں بعد میں بھگتنے پڑتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمیں بحیثیت قوم مزید ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

فضائی آلودگی کا عفریت: لاہور سے لے کر ہمارے گھروں تک

لاہور کی اسموگ کا ذکر اب ہر زبان پر ہے اور یقین مانیں، یہ محض لاہور کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارے کئی شہروں کی فضائیں آلودہ ہو چکی ہیں۔ میں نے خود محسوس کیا ہے کہ کیسے خشک موسموں میں گلے میں خراش اور آنکھوں میں جلن محسوس ہوتی ہے۔ گاڑیوں کا دھواں، فیکٹریوں سے نکلنے والا زہریلا مواد اور فصلوں کی باقیات جلانا، یہ سب ہماری فضا کو زہر آلود کر رہے ہیں۔ حکومت پنجاب نے حال ہی میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک فورس بنانے کا اعلان کیا ہے، جو کہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ یہ مسئلہ صرف حکومتی اقدامات سے حل نہیں ہو گا، بلکہ ہر فرد کو اپنی گاڑیوں کی دیکھ بھال کرنی ہو گی، فضول آگ جلانے سے گریز کرنا ہو گا اور ایندھن کے صاف ذرائع استعمال کرنے ہوں گے۔ یہ ہماری سانسوں کا معاملہ ہے اور اس میں لاپرواہی کی کوئی گنجائش نہیں۔ مجھے یاد ہے میرے والد صاحب کہتے تھے کہ صاف ہوا اللہ کی نعمت ہے، اور آج ہم اس نعمت کو اپنی ہی غلطیوں سے گندا کر رہے ہیں۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اسموگ: ایک خاموش قاتل

اسموگ ایک خاموش قاتل ہے جو آہستہ آہستہ ہماری صحت کو تباہ کر رہا ہے۔ یہ سانس کی بیماریوں، دل کے امراض اور یہاں تک کہ کینسر کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ مجھے یہ سوچ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے بچے آلودہ فضا میں سانس لینے پر مجبور ہیں۔ اس پر قابو پانے کے لیے صرف سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ یا فیکٹریاں بند کرنا کافی نہیں، بلکہ ہمیں اس کی بنیادی وجوہات پر حملہ کرنا ہو گا۔

فضائی آلودگی کے خلاف حکومتی حکمت عملی

حکومت کی جانب سے بنائے جانے والے ماحولیاتی تحفظ کے قوانین اور فضائی آلودگی کے خلاف بنائی گئی حکمت عملیوں پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔ اس میں صنعتی یونٹس کی نگرانی، گاڑیوں کے لیے ایئر کوالٹی سٹینڈرڈز کا نفاذ اور کچرے کو جلانے پر پابندی شامل ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں نہیں دی جائیں گی، صورتحال بہتر نہیں ہو گی۔

پانی کا مسئلہ: ایک قومی چیلنج اور اس کا حل

Advertisement

ہمارے ملک میں پانی کا مسئلہ دن بہ دن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف پانی کی کمی کا سامنا ہے تو دوسری طرف جو پانی دستیاب ہے وہ آلودہ ہوتا جا رہا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں چھوٹا تھا تو گھروں میں صاف نل کا پانی آتا تھا، لیکن اب اکثر علاقوں میں پانی خرید کر پینا پڑتا ہے، اور اس کی کوالٹی پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ صنعتی فضلہ، زرعی کیمیکلز اور سیوریج کا پانی ہمارے دریاؤں اور زیر زمین پانی کو تباہ کر رہا ہے۔ یہ صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ہماری زراعت اور معیشت پر بھی گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ حکومت نے پانی کے تحفظ اور آلودگی کو روکنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں اور قوانین بھی موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کی رفتار کو تیز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ پانی زندگی ہے اور اس کے بغیر کسی بھی قسم کی ترقی کا سوچنا ناممکن ہے۔ ہمیں پانی کو ضائع ہونے سے بچانا ہو گا اور اس کے دوبارہ استعمال کے طریقے اپنانے ہوں گے۔

آلودہ پانی اور اس کے صحت پر اثرات

آلودہ پانی پینے سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اور دیگر کئی بیماریاں عام ہیں۔ میں نے خود کئی ایسے لوگ دیکھے ہیں جو آلودہ پانی پینے کی وجہ سے بیمار پڑے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہمیں پانی کے تصفیہ کے پلانٹس (Water Treatment Plants) لگانے ہوں گے اور صنعتی فضلہ کو بغیر تصفیہ کے دریاؤں میں بہانے سے روکنا ہو گا۔

پانی کے تحفظ کے لیے قومی پالیسیاں

حکومت نے پانی کے تحفظ کے لیے قومی واٹر پالیسی جیسے اقدامات کیے ہیں۔ ان پالیسیوں کا مقصد پانی کے ذخائر کو بڑھانا، اس کے استعمال کو مؤثر بنانا اور آلودگی کو کنٹرول کرنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ان پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد کر کے ہم اپنے آبی وسائل کو بچا سکیں گے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ہمیں بحیثیت قوم متحد ہو کر کام کرنا ہو گا۔

پلاسٹک کا جال: ہماری زمین اور سمندروں کا دشمن

یقین جانیں، جب میں بازار جاتا ہوں اور ہر چیز پلاسٹک کی تھیلیوں میں لپٹی دیکھتا ہوں تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔ پلاسٹک نے ہمارے ماحول کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ نہ صرف ہماری زمین پر کچرے کے ڈھیر لگا رہا ہے بلکہ ہمارے سمندروں میں جا کر آبی حیات کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ پلاسٹک کو گلنے میں سینکڑوں سال لگتے ہیں، اور اس دوران یہ زمین اور پانی دونوں کو آلودہ کرتا رہتا ہے۔ حکومت نے سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی لگانے اور پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال کو کم کرنے کے لیے قوانین بنائے ہیں، جو کہ ایک بہت اچھا اقدام ہے۔ میں نے خود کوشش کی ہے کہ جب بھی خریداری کے لیے جاؤں تو اپنا کپڑے کا تھیلا لے کر جاؤں۔ یہ چھوٹی سی عادت ماحول پر بڑا مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ ہمیں اپنے گھروں سے پلاسٹک کا استعمال کم کرنا ہو گا اور اس کی جگہ ماحول دوست متبادل استعمال کرنے ہوں گے۔ یہ ہمارے سیارے کی بقا کا سوال ہے۔

سنگل یوز پلاسٹک: ایک بڑا خطرہ

سنگل یوز پلاسٹک، یعنی وہ پلاسٹک جو صرف ایک بار استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے، ہمارے ماحول کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ پلاسٹک کی بوتلیں، تھیلیاں اور کپ، یہ سب ہمارے ارد گرد ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ مجھے یہ سوچ کر افسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنی سہولت کے لیے اپنے سیارے کو کتنی بڑی قیمت ادا کروا رہے ہیں۔

پلاسٹک آلودگی کے خلاف حکومتی اقدامات اور ہماری ذمہ داری

حکومت پلاسٹک کی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مختلف قوانین بنا رہی ہے، جیسے سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی اور پلاسٹک کو ری سائیکل کرنے کے لیے اقدامات۔ لیکن ان قوانین کی کامیابی کا انحصار ہم سب پر ہے۔ ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنا ہو گا اور ری سائیکلنگ کو اپنی عادت بنانا ہو گا۔ یہ ایک ایسی چھوٹی سی تبدیلی ہے جو بڑا فرق لا سکتی ہے۔

ماحولیاتی فورس اور ہمارے کردار کی اہمیت

حال ہی میں پنجاب حکومت نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک خصوصی فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا اور آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔ یہ ایک بہت ہی بروقت اور اہم قدم ہے، کیونکہ صرف قوانین بنا دینا کافی نہیں، بلکہ ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے لوگ کھلے عام کچرا پھینکتے ہیں یا دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں سڑکوں پر چلتی رہتی ہیں، کیونکہ انہیں کسی خوف کا احساس نہیں ہوتا۔ اس فورس کا قیام یقیناً اس صورتحال کو بدلنے میں مدد دے گا۔ لیکن، اس فورس کا کام صرف قانون کا نفاذ نہیں ہے، بلکہ اس میں عوام کا تعاون بھی انتہائی اہم ہے۔ ہم سب کو اپنی آنکھیں کھلی رکھنی ہوں گی اور جہاں بھی ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی ہو، اس کی اطلاع دینی ہو گی۔ یاد رکھیں، یہ ہمارا اپنا گھر ہے اور اس کی حفاظت ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ فورس ایک حقیقی تبدیلی لائے گی اور ہم ایک صاف ستھرا ماحول دیکھ سکیں گے۔

مسئلہ ماحولیاتی اثرات قانونی حل
فضائی آلودگی اسموگ، سانس کی بیماریاں، عالمی درجہ حرارت میں اضافہ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997، گاڑیوں کے اخراج کے معیارات، صنعتی فلٹریشن کے قوانین
پانی کی آلودگی آبی حیات کی تباہی، پینے کے پانی کی کمی، بیماریاں انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997، واٹر پالیسی، صنعتی فضلہ کے تصفیہ کے قوانین
پلاسٹک آلودگی زمین اور سمندروں کی تباہی، کچرے کے ڈھیر، آبی حیات کو نقصان سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی، ری سائیکلنگ کے قوانین، کچرے کو ٹھکانے لگانے کے اصول
Advertisement

ماحولیاتی فورس: ایک نئے دور کا آغاز

یہ فورس ہمارے ملک میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتی ہے۔ اس کا مقصد صرف جرمانے کرنا نہیں، بلکہ عوام میں شعور پیدا کرنا اور ماحول دوست طرز زندگی کو فروغ دینا بھی ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ فورس نہ صرف ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل کروائے گی بلکہ ہمیں ایک بہتر مستقبل کی راہ بھی دکھائے گی۔

بحیثیت شہری ہمارا کردار

صرف حکومتی اقدامات ہی کافی نہیں ہیں۔ ہمیں بحیثیت شہری اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ کچرا صحیح جگہ پھینکنا، پانی کو ضائع ہونے سے بچانا، درخت لگانا اور پلاسٹک کا استعمال کم کرنا، یہ سب ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے کام مل کر ایک بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو ہم اپنے ماحول کو بچا سکتے ہیں۔

مستقبل کی راہیں: پائیدار ترقی اور ہماری نسلوں کا حق

ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ جو وسائل ہمارے پاس ہیں، وہ صرف ہمارے لیے نہیں ہیں، بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کا بھی ان پر حق ہے۔ پائیدار ترقی کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے موجودہ وسائل کو اس طرح استعمال کریں کہ ہماری آئندہ نسلوں کے لیے بھی ان کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ صرف معاشی ترقی کا نام نہیں، بلکہ اس میں ماحولیاتی اور سماجی پہلو بھی شامل ہیں۔ مجھے یہ سوچ کر خوشی ہوتی ہے کہ اگر ہم آج درست فیصلے کریں تو اپنے بچوں کے لیے ایک روشن اور صاف ستھرا مستقبل چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے قابل تجدید ذرائع جیسے شمسی اور بادی توانائی پر زیادہ توجہ دینی ہو گی، جو کہ ماحول دوست ہیں۔ جنگلات کو کاٹنے کی بجائے نئے درخت لگانے ہوں گے اور اپنے آبی ذخائر کو محفوظ بنانا ہو گا۔ یہ ایک طویل سفر ہے، لیکن اس کی ابتدا آج ہی سے کرنی ہو گی۔ آئیے عہد کریں کہ ہم ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھیں گے جہاں فطرت اور انسان ہم آہنگی کے ساتھ رہ سکیں۔

قابل تجدید توانائی: ہمارے مستقبل کی ضرورت

قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جیسے شمسی اور بادی توانائی، نہ صرف ماحول دوست ہیں بلکہ طویل مدت میں اقتصادی طور پر بھی فائدہ مند ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ان پر سرمایہ کاری کر کے ہم اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں اور اپنے کاربن کے اخراج کو بھی کم کر سکتے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کے لیے ایک بہت بڑا موقع ہے۔

جنگلات اور ان کا تحفظ

درخت ہمارے سیارے کے پھیپھڑے ہیں۔ یہ ہوا کو صاف کرتے ہیں، بارشیں لاتے ہیں اور مٹی کے کٹاؤ کو روکتے ہیں۔ جنگلات کا کٹاؤ ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر قابو پانا بہت ضروری ہے۔ ہمیں نئے درخت لگانے ہوں گے اور موجودہ جنگلات کو بچانا ہو گا۔ یہ ہماری اپنی بقا کا سوال ہے۔

حرف آخر

환경법과 규제 관련 이미지 2

میرے پیارے دوستو، آج ہم نے اپنے سیارے کو بچانے کی دوڑ میں عالمی کوششوں اور ہماری ذاتی ذمہ داریوں پر بات کی۔ یہ کوئی آسان جنگ نہیں، لیکن مجھے پختہ یقین ہے کہ اگر ہم سب مل کر، ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر، اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں تو ہم نہ صرف اپنے ماحول کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک خوبصورت اور صحت مند دنیا بھی چھوڑ سکتے ہیں۔ میں خود محسوس کرتا ہوں کہ جب ہم چھوٹے چھوٹے اقدامات کرتے ہیں، جیسے کچرا صحیح جگہ پھینکنا یا پلاسٹک کا استعمال کم کرنا، تو یہ بظاہر معمولی نظر آنے والے کام بھی ایک بہت بڑا فرق پیدا کرتے ہیں۔ آئیے ہم سب آج سے ہی اپنے حصے کی شمع جلائیں اور اس امید کے ساتھ آگے بڑھیں کہ ہماری زمین کا مستقبل روشن ہے۔

Advertisement

کارآمد معلومات

یہاں کچھ کارآمد معلومات دی گئی ہیں جن پر عمل کرکے آپ ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں:

1. اپنے گھر سے ہی کچرے کو الگ الگ کرنا شروع کریں (مثلاً پلاسٹک، کاغذ، کھانے پینے کی اشیاء کا کچرا) تاکہ ری سائیکلنگ آسان ہو سکے۔ یہ میری اپنی عادت ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ اس سے کچرے کی مقدار میں نمایاں کمی آتی ہے۔

2. سنگل یوز پلاسٹک، جیسے بوتلیں اور شاپنگ بیگز، کے استعمال سے گریز کریں۔ جب بھی بازار جائیں تو اپنا کپڑے کا تھیلا ساتھ لے کر جائیں۔ یہ ایک چھوٹی سی تبدیلی ہے لیکن اس کے اثرات بہت بڑے ہیں۔

3. پانی کو بچانے کی کوشش کریں، نہاتے وقت یا برتن دھوتے وقت نل کھلا نہ چھوڑیں اور لیکنگ پائپوں کو فوری ٹھیک کروائیں۔ میں نے خود محسوس کیا ہے کہ پانی کی قدر تب ہوتی ہے جب وہ کم ہونے لگتا ہے، لہذا اسے ضائع نہ کریں۔

4. زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں، خواہ وہ آپ کے گھر میں گملوں میں ہوں یا آپ اپنے محلے میں کسی خالی جگہ پر پودا لگائیں۔ درخت ہماری فضا کو صاف رکھتے ہیں اور گرمی کی شدت کو کم کرتے ہیں۔

5. گاڑیوں کا دھواں بھی فضائی آلودگی کا ایک بڑا سبب ہے۔ اپنی گاڑیوں کی باقاعدہ دیکھ بھال کروائیں تاکہ وہ کم دھواں خارج کریں۔ اگر ممکن ہو تو پیدل چلیں یا سائیکل کا استعمال کریں، یہ آپ کی صحت کے لیے بھی اچھا ہے اور ماحول کے لیے بھی۔

اہم باتوں کا خلاصہ

آج کی ہماری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ ماحولیاتی تحفظ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے لیے بین الاقوامی سطح پر پیرس معاہدہ اور کیوٹو پروٹوکول جیسے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد کاربن کے اخراج کو کم کرنا اور ہمارے سیارے کو مزید گرم ہونے سے بچانا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان عالمی کوششوں کا اثر ہماری روزمرہ زندگی پر بھی پڑتا ہے اور ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے۔ پاکستان میں بھی ماحولیاتی تحفظ کا قانون EPA 1997ء موجود ہے جو آلودگی کو روکنے کے لیے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرتا ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ فضائی آلودگی، بالخصوص لاہور کی اسموگ، اور پانی کی آلودگی ہمارے ملک کے سنگین مسائل ہیں جن کا مقابلہ کرنے کے لیے نہ صرف حکومتی حکمت عملی بلکہ ہماری انفرادی کوششیں بھی ضروری ہیں۔ پلاسٹک کی آلودگی بھی ایک بڑا چیلنج ہے، اور ہمیں اس کے استعمال کو کم کر کے ماحول دوست متبادل اپنانے ہوں گے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ماحولیاتی فورس کا قیام ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار عوام کے تعاون پر ہے۔ ہمیں پائیدار ترقی کے اصولوں کو اپناتے ہوئے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور صحت مند مستقبل کو یقینی بنانا ہے۔ یاد رکھیں، ہمارے چھوٹے چھوٹے اقدامات مل کر ایک بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کے اہم قوانین کون سے ہیں اور یہ کس طرح ہمارے ماحول کو بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں؟

ج: دیکھو یارو، ہمارے ملک میں ماحول کی حفاظت کے لیے قانون سازی کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس کا اطلاق واقعی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں جو سب سے اہم اور جامع قانون ہے وہ ہے “پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997” (PEPA 1997)۔ یہ ایکٹ ہمیں ایک مضبوط قانونی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جس کے تحت ماحولیاتی آلودگی کو روکا جا سکتا ہے، ماحول کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور قدرتی وسائل کا پائیدار استعمال یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے اس قانون کے تحت انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسیز (EPAs) بنائی گئی ہیں جو مختلف منصوبوں اور صنعتوں کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیتی ہیں۔ یہ جائزہ انوائرنمنٹل امپیکٹ اسیسمنٹ (EIA) یا انیشل انوائرنمنٹل ایگزامینیشن (IEE) کی صورت میں ہوتا ہے، جس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ کوئی بھی نیا منصوبہ ماحول پر منفی اثر نہ ڈالے۔ مجھے یاد ہے جب میرے علاقے میں ایک فیکٹری بن رہی تھی تو مقامی لوگوں نے شور مچایا اور پھر EPA نے آ کر جائزہ لیا۔ یہ دیکھ کر بہت تسلی ہوئی کہ ہمارے پاس ایک ایسا نظام موجود ہے جو ماحول کا دفاع کر سکتا ہے۔ اس قانون کی بدولت ہی فضا، پانی اور مٹی میں پھیلنے والی آلودگی پر قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ہماری آئندہ نسلوں کے لیے ایک صاف ستھرا ماحول یقینی بنایا جاتا ہے۔

س: بطور عام شہری، ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ماحولیاتی قوانین کی حمایت اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کیا عملی اقدامات کر سکتے ہیں؟

ج: یہ سوال بہت اہم ہے کیونکہ حکومت اپنا کام کر رہی ہے لیکن ہمارا ذاتی کردار بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ مجھے ذاتی طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اگر ہر بندہ اپنی ذمہ داری سمجھے تو آدھے مسائل تو ویسے ہی حل ہو جائیں۔ سب سے پہلے تو پلاسٹک کے استعمال کو کم سے کم کرو۔ میں نے خود کوشش کی ہے کہ خریداری کے لیے ہمیشہ کپڑے کا تھیلا لے کر جاؤں، اور یقین مانو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، کوڑا کرکٹ صحیح جگہ پر پھینکو اور گیلا اور خشک کچرا الگ کرنے کی کوشش کرو۔ ہمارے گھروں سے نکلنے والا کچرا اگر مناسب طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے تو آلودگی بہت کم ہو سکتی ہے۔ دوسرا بڑا کام یہ ہے کہ بجلی اور پانی کا استعمال سوچ سمجھ کر کرو۔ جب میں نے اپنے بجلی کے بل پر غور کیا تو پتہ چلا کہ کتنی بجلی غیر ضروری طور پر استعمال ہو رہی تھی۔ اب میں کمرے سے نکلتے وقت لائٹ اور پنکھا بند کرنے کو اپنی عادت بنا چکا ہوں۔ درخت لگانا بھی ایک بہترین عمل ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ہم ہر سال درخت لگاتے تھے، وہ عادت اب بھی برقرار ہے اور میرا دل خوش ہوتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ میرے لگائے پودے اب درخت بن گئے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے قدم ہیں جو مل کر بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں، اور یہی اصل میں ان ماحولیاتی قوانین کی بنیاد ہیں۔

س: پنجاب میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے بنائی گئی نئی فورس اور پلاسٹک آلودگی پر توجہ جیسی حالیہ کوششیں اسموگ اور دیگر ماحولیاتی چیلنجز سے کیسے نمٹ رہی ہیں؟

ج: جب میں نے سنا کہ پنجاب میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک خصوصی فورس بنائی جا رہی ہے تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔ یہ ایک بڑا اور ٹھوس قدم ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری حکومت اب محض باتوں سے زیادہ عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔ اس فورس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے، خاص طور پر صنعتوں میں جہاں آلودگی کو روکنا انتہائی ضروری ہے۔ جیسے لاہور میں اسموگ کا مسئلہ ہے، اس فورس کا کام ہے کہ وہ ایسی صنعتوں اور گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرے جو آلودگی کا باعث بن رہی ہیں۔ میرے دوستوں نے بھی بتایا ہے کہ اب فیکٹریوں کی زیادہ چیکنگ ہو رہی ہے اور اگر کوئی فضائی یا آبی آلودگی پھیلا رہا ہے تو اس کے خلاف جرمانے اور کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، پلاسٹک آلودگی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے، اور اس پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ مجھے خود محسوس ہوا ہے کہ اب بہت سی دکانوں پر پلاسٹک کے تھیلوں کا استعمال کم ہو گیا ہے اور لوگ بھی متبادل استعمال کر رہے ہیں۔ یہ فورس اور اس طرح کی مہمات صرف جرمانے لگانے کے لیے نہیں ہیں بلکہ ان کا مقصد عوام میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں ماحول دوست رویے اپنانے پر مجبور کرنا بھی ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ کوششیں ہمارے شہروں کی ہوا کو صاف کرنے اور ہمارے دریاؤں اور زمین کو پلاسٹک کی لعنت سے بچانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

Advertisement